Can The PDM Survive

کیا پی ڈی ایم چل پائے گی؟

اخبار کا نام: ڈان؛ مصنف کا نام: زاہد حسین؛ تاریخ: 24 مارچ 2021

پی ڈی ایم (PDM)، جو حکومت کے خلاف مختلف پارٹیوں کا اتحاد ہے۔ حال ہی میں اس اتحاد کی دو بڑی پارٹیوں کے درمیان لفظوں کی ایک جنگ ہوئی۔ البتہ اس تناؤ کے نتائج دیکھ کے لگ رہا ہے کہ وہ صرف لفظی جنگ نہیں تھی بلکہ کچھ اور بھی تھا۔ پاکستان مسلم لیگ ن (PML-N) اور پی پی پی (PPP) کے درمیان بہت زیادہ اختلافات دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اور یہ اختلافات ابھی تک پی ڈی ایم کو ختم کرنے کا سبب تو نہیں بنے ہیں مگر ایسا لگ رہا ہے کہ مستقبل میں یہ ایسا کچھ کر سکتے ہیں۔ البتہ اگر ایسے حالات میں پی ڈی ایم قائم بھی رہتی ہے تو تب بھی وہ حکومت کے لیے کوئی بڑا چیلنج پیدا نہیں کر پائے گی۔
آج سے چھ ماہ پہلے پی ڈی ایم کو تشکیل دیا گیا تھا اور تب سے ہی اس میں شریک تمام جماعتیں ایک پوائنت پر متفق نہیں ہو پائی۔ پی ڈی ایم نے ابھی تک کوئی خاص کارنامہ سر انجام نہیں دیا ہے۔ لیکن پی ٹی آئی (PTI) حکومت نے اس سے محتاط رہنا سیکھ لیا ہے البتہ ابھی تک پی ڈی ایم اپنا کوئی ایک ایجنڈا نہیں بنا پائی ہے۔
نواز شریف اور اسکی بیٹی مریم نواز کا فوجی قیادت کو بُرا بھلا کہنا ایک انتہائی بچوں والی حرکت ہے۔ یہ پی پی پی اور مسلم لیگ کے درمیان اختلافات کی سب سے بڑی وجہ بنی ۔ جبکہ دوسری طرف پی پی پی نے سیاسی عوامل میں حصہ لے کر اور اقتدار حاصل کر کے پی ٹی آئی کو شکست دینے کا فیصلہ کیا۔ اسی کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم کو عوام کی بھی اتنی مدد حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا ان باتوں کے علاوہ پی ڈی ایم کی اور بھی بہت سی مسائل ہیں جن پر اِنکو نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
پی پی پی کی تجویز کے مطابق مسلم لیگ نےبائی الیکشنز میں حصہ لینے کی رضا مندی دی تھی۔ اسی رضا مندی کے چلتے پی ڈی ایم نے بائی الیکشن او ر سینٹ اانتخابات میں حصہ لیا۔ پھر یوسف رضاگیلانی کی جیت نے پی پی پی کی بات سچ ثابت کر دکھائی کہ سسٹم میں رہ کر ہی حکومت کو شکست دی جاسکتی ہے۔ اسی وجہ سے پی ڈی ایم اب اس بات پر زرو دے رہی ہے کہ پنجاب میں پی ٹی آئی (PTI) حکومت عدم اعتماد کو ووٹ لے کیونکہ کے پنجاب میں اِنکی حکومت کی حالت بہت خراب ہے۔ یہ عمل پی ڈی ایم کیلئے بہت مدد گار ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ عثمان بزدار کی حکومت شروع سے ہی لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے۔
چونکہ مسلم لیگ ن پنجاب کی سب سے بڑی پارٹی ہے لیکن وہ اس عدم اعتماد کے ووٹ کے حق میں نہیں ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا قومی اسمبلی میں عدم اعتماد کا ووٹ لینا اور پھر سینٹ چیرمین کا الیکشن جیتنا، مسلم لیگ کو شک میں ڈال رہا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ اسٹبلشمنٹ کے کردار کو نظر انداز نہیں کر سکتے اس لیے وہ پنجاب میں عدم اعتماد کے ووٹ کے حق میں نہیں ہیں۔ ایک طرف پی پی پی اسٹبلشمنٹ کے غیر جانبدار ہونے پر یقین کر رہی ہے اور دوسری طرف مسلم لیگ اسٹبلشمنٹ پر شک کر رہی ہے۔ البتہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز سکیورٹی اداروں پر تنقید کرتے ہیں۔ پی ڈی ایم کی میٹنگ میں بھی نواز شریف نے فوجی قیادت پر تنقید کی کہ اُسکی بیٹی کو دھمکانہ بند کریں۔
اگرچہ ابھی تک ایسے کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں جن سے یہ پتہ چل سکے کہ اسٹبلشمنٹ عمران خان کی حامی ہے۔ مگر اس بات کا شک ضرور ہے کہ الیکشن میں اسٹبلشمنٹ کا کچھ نا کچھ کردار تو ضرور تھا۔ چونکہ سینٹ الیکشن میں پی ڈی ایم کی جیت نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ لیکن سینٹ چیرمین کے الیکشن میں ساتھ ووٹوں کا ضائع ہو جانا اسٹبلشمنٹ کی طرف ہی اشارہ کرتاہے۔لہٰذا اسی وجہ سے پی پی پی نے سپریم کورٹ میں یہ فیصلہ چیلنج بھی کیا۔ البتہ ڈپٹی چیرمین کے الیکشن نے یہ بات واضح کر دی کہ اپوزیشن کے کچھ ممبران حکومت کے ساتھ مل گئے ہیں۔ کیا اس میں بھی اسٹبلشمنٹ کا ہاتھ ہے؟ ہو سکتا ہے لیکن کوئی بھی یہ بات پورے یقین سے نہیں کہہ سکتا۔
چیرمین سینٹ الیکشن میں ہار پی ڈی ایم کیلئے ایک بڑاصدمہ بنی اور ایک دفعہ پھر حکومت کا پلڑابھاری ہو گیا۔ مگر اس نے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کے درمیان تفریق پیدا کر دی اور وہ اپنے مشترکہ موقف سے ہٹ گئے۔ ایک طرف پی ڈی ایم میں موجودمسلم لیگ اور جے یو ایف آئی (JUI-F) یہ چاہتے ہیں کہ وہ اسمبلیوں سے استعفیٰ دیں اور حکومت کے خلاف مارچ کریں ۔ جبکہ دوسری طرف پی پی پی نے ایسا کرنےسے انکار کر دیا۔ پی پی پی کے مطابق اسمبلی سے استعفیٰ دینا ملک میں ہلچل مچا سکتا ہےاور حکومت کو زیادہ طاقتور بنا سکتا ہے۔
اسمبلی سے مستعفی ہونا پی پی پی کے لیے زیادہ نقصان دہ ہے کیونکہ ایسا کرنے سے سندھ میں انکی حکومت ختم ہو جائے گی۔ اسی کے پیشِ نظر آصف علی زرداری نے پی ڈی ایم کے اجلاس میں کہا کہ پارٹی اس قابل نہیں ہے کہ طاقت ور اسٹبلشمنٹ کا مقابلہ کر سکے۔ لہٰذا میاں صاحب علیحدہ ہونے والی باتیں نہ کریں۔ جنگ لڑنی ہے تو میدان میں آئیں۔ آپ ملک واپس آجائیں پھر ہم استعفے دیں گے۔ اس بیان کے بعد مریم نواز نے بیان دیا کہ پی پی پی بھی اسٹبلشمنٹ کے ساتھ مل گئی ہے۔ تاہم اس طرح کے حالات پی ڈی ایم کو ختم کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اگرچہ یہ بات واضح طور پر نہیں بولی جا سکتی ، ہو سکتا ہے دونوں بڑی سیاسی پارٹیاں اپنے اپنے ایجنڈے کے ساتھ حکومت کےخلاف اتحاد قائم رکھیں۔ مسلم لیگ کا کہنا کے کہ پی ڈی ایم ااسمبلی سے استعفے دے کر اپنا احتجاج جاری رکھے گی پھر چاہے پی پی پی ساتھ دے یا نہ دے۔ خیر یہ تمام حالات پی ٹی آئی کے حق میں ہے۔ لیکن کیا پی ٹی آئی اپنی ہی نااہلیوں اور غلطیوںکو قابو کر پائے گی؟

:Source

DAWN NEWSPAPER