Covid-19, Deadly Gestures Of Kindness

کرونا، مہربانی کرنے کے مہلک اثرات

اگر آپ کرونا کی مہلک بیماری میں مبتلا ہوں تو آپکو کیا کرنا چاہیے؟ اگر آپ یہی سوال انٹرنیٹ پر سرچ کریں تو آپکو بے شمار جواب ملیں گے۔ البتہ وہ تمام کے تمام جواب غلط اور من گھڑت ہوں گے۔ ایسے لوگ جو صحت یاب ہو جاتے ہیں وہ دوسروں کو مشورےدے رہے ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیسے کرونا کا مقابلہ کیا۔ وہ اپنی خوراک کے بارے میں بتا رہے ہوتے ہیں جو انہوں نے بیماری کے دوران استعمال کی ہوتی ہے۔ اسکے علاوہ وہ سوشل میڈیا پر باقاعدہ طور پر ڈاکٹر بنے ہوتے ہیں۔ ان تمام لوگوں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جن کا نہ تو کوئی میڈیسنز کے متعلق بیک گراؤنڈ ہوتا ہے نہ وہ ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ البتہ سوشل میڈیا پر اُنکے ہزاروں پیروکار ضرور ہوتے ہیں۔ چونکہ لوگ سوشل میڈیا پر آنکھیں بند کر کے یقین کرتے ہیںاسی لیے کرونا وبا اور اسکی علامات کے بارے میں سوشل میڈیا پر بہت غلط معلومات پھیلی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات جب کروناوبا کی تیسری لہر نے پاکستان کے مختلف شہروں میں اثر دِکھانا شروع کیا ہے تو اس صورت میں یہ غلط معلومات لوگوں کی جان کا باعث بن سکتی ہیں۔

ایسی غلط اور بے بنیاد معلومات وائرس سے زیادہ خطرناک ہیں۔ میں نے حال ہی میں ایک اُردو اخبار میں ایک کالم پڑھا جس میں کالم نگار یہ بتا رہا تھا کہ اُسے کیسے کرونا وائرس ہوا اور پھر کیسے اُس نے ہومیوپیتھک میڈیسنز استعمال کر کے وائرس کو شکست دی۔ اُس نے بھلائی کا کام سمجھ کے اپنے کالم میں میڈیسن کا نام اور استعمال کے طریقے کے بارے میں بتایا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ اُس نے ڈاکٹر کا پتہ بھی بتایا ہوا تھا جہاں سے وہ میڈیسن ملتی ہے۔ اس کالم کو بہت لوگوں کی طرف سے سراہا گیا اور کالم نگار کا شکریہ ادا کیا گیا کہ وہ صدقہ جاریا کر رہا ہے۔ اُس آرٹیکل کا نام “ہم کیسے کرونا وائرس سے بچ سکتے ہیں” تھا ۔ اور اس آرٹیکل میں جو چیزیں بتائی گئی ہیں وہ اکثر ایسی ہیں جنہیں کرونا کی بیماری کے دوران کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
کرونا کی بیماری کا اعلاج کسی ہومیوپیتھک یا دیسی ادوایات میں نہیں ہے۔ بلکہ یہ کسی انسانی جسم کی قوت مدافعت ہے جو اسے کرونا کے خلاف جنگ کے قابل بناتی ہے۔ لہٰذا اسی لیے زیادہ تر مریض ہسپتال جانے سے پہلے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ تاہم یہ بیمار ی ہر ایک شخص پر علیحدہ طریقے سے اثرانداز ہوتی ہے اور یہ اُنکی قوت مدافعت پر مبنی ہوتی ہے۔ اسی لیے کرونا اگر ایک دفعہ مثبت آبھی جائےتب بھی کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں جانا چاہیے بلکہ خود پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر ایک سے زیادہ دفعہ آپ نے ٹیسٹ کروایا ہے اور مثبت آیا ہے تب آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو ڈاکٹر آپکو آپکی حالت کی مطابق میڈیسن دے گا۔لہٰذا تب تک آپکا علاج چلے گا جب تک کرونا پوری طرح سے آپکے جسم سے ختم نہیں ہوجاتا۔ اس دوران کچھ لوگوں کی قوت مدافعت کم ہوتی ہے اسی لیے اُنکو آکسیجن کیلئے ہسپتال داخل ہونا پڑتا ہے۔بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں پر کرونا وائرس جلدی اثر کرتا ہے اور اُنکو ڈاکٹر سے رابطہ جلدی کرنا پڑتا ہے۔ دنیا میں کرونا کی وجہ سے زیادہ تر اموات اس لیے ہوئی ہیں کیونکہ جب تک مریض کو ہسپتال لے کر جایا جاتا ہے تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
نیشنل ہیلتھ سروس انگلینڈ نے یہ بات واضح طور پر بتائی ہے کہ ایسی کوئی ہومیوپیتھک دوائی نہیں ہے جس سے کرونا وائرس کا علاج ہو سکے۔ مگر البتہ ان ادویات کے استعمال سے انسانی جسم کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور کچھ لوگوں کیلئے یہ بات مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن یہ تمام لوگوں کیلئے نہیںہےاور کچھ لوگ تو ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی دوائی کے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے مشورے اور ہدایات کسی بھی حتمی ادارے سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔ اس لیے ان پر عمل کرنے سے گریز کریں کیونکہ یہ انسانی جان کیلئےمہلک ثابت ہو سکتی ہیں۔ امریکہ میں بھی اسی طرح کی غلط معلومات نے وہاں کرونا وبا کو بہت سنگین بنا دیا ہے۔ مزید یہ کہ یہی جعلی اور غیر حتمی ہدایات لوگوں کو اصل علاج کی طرف جانے سے بھی روکتی ہیں۔
البتہ کرونا وائرس کے بارے میں درست اور حتمی معلومات سینٹر آف ڈزیز کنٹرول (Center Of Disease Control) سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ کرونا کی ویکسین کو تمام لوگوں کو لگانے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ لہٰذا ابھی احتیات کرنا اور ایس او پی (SOPs) پر عمل کرنا ہی سب سے بہتر علاج ہے۔ چونکہ کرونا وائرس لوگوں کے زیادہ میل ملاپ سے پھیلتا ہے اسی لیے کرونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے ماسک استعمال کرنا اور سوشل ڈسٹنس رکھناسب سے کار آمد راستہ ہے۔ لہٰذا غلط ہدایات اور معلومات سوشل میڈیا پر شیئر کرنا خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

:Sources

https://tribune.com.pk/epaper/news/Karachi/2021-03-13/ODNjMmJhMzY2M2UxOTRiNDkxOGZjMGFlNWZmM2YyODguanBlZw%3D%3D