Do You Know Smartphones Share Our Data Every Four And A Half Minutes

کیا آپ جانتے ہیں سمارٹ فونز تقریباً ہر چار منٹ بعد ہمارا ڈیٹا شیئر کرتے ہیں

حال ہی میں ہوئی ایک نئی تعلیمی ریسرچ کے مطابق سمارٹ فونز ہمارے موبائل کا ڈیٹا اپنی کمپنی کے ساتھ شیئر کرتے ہیں۔ ریسرچ نے بتایا کہ اس معاملے میں اینڈروئیڈ (Android) اور ایپل (Apple) میں کوئی فرق نہیں ہے، دونوں کمپنیاں یہ کام کرتی ہیں۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپکا موبائل آپکے ہاتھ میں ہے یا جیب میں، موبائل نے ہر ساڈے چار منٹ بعدآپکا ڈیٹا شیئر کر ہی دینا ہوتا ہے۔
 

    ٹرنیٹی کالج ڈبلن (The Trinity College Dublin) نے سکیورٹی کے معاملات کو لے کر سمارٹ فونز پر ریسرچ کی ہے۔ ریسرچ میں بتایا، جہاں تک ڈیٹا اکھٹا کرنے کی بات آتی ہے وہاں گوگل (Google) اور ایپل (Apple) میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ پروفیسر ڈوگ لیتھ (Doug Leith) نے یہ سٹڈی کی اور ٹرینٹی سینٹر میں متعارف کروائی ۔انہوں نے بتایا کہ آئی فون (iPhone) جیسا اچھا موبائل بھی اس معاملے میں گوگل سے زیادہ سکیورٹی فراہم نہیں کرتا۔ البتہ اس سٹڈی میں بتایا گیا کہ گوگل آئی فون کے مقابلے میں صارف کا زیادہ ڈیٹا اکھٹا کرتا ہے۔ گوگل بارہ گھنٹوں میں ایک ایم بی (MB) تک ڈیٹا اکھٹا کرتا ہے جبکہ آئی فون باون کے بی (Kb) تک ڈیٹا اکھٹا کرتا ہے۔

سمارٹ فون کی جانب سے کمپنی کو ترسیل کیے جانے والے ڈیٹا میں آپکی سیم (SIM) کی تفصیلات اور ہارڈوئیر (Hardware) کی تفصیلات وغیرہ شامل ہوتی ہیں۔ ان تفصیلات میں آئی ایم ای آئی (IMEI) اور وائی فائی میک (Wifi MAC) ایڈریس اور فون نمبر وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

              پروفیسر نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ خود کمپنیوں کو ڈیٹا لینے کی اجازت دیتے ہیں تاکہ وہ اُنکی مختلف سروسز سے لطف اندوز ہو سکیں۔ اب جیسے آئی کلاؤڈ (iCloud) اور گوگل ڈرائیو (Google Drive) ایسی سروسز ہیں جن سے استفادہ حاصلے کرنے کیلئے آپکو اس قسم کا ڈیٹا دینا پڑتا ہے۔ لیکن جب ہم موبائل صرف فون سُننے کیلئے اور فون کرنے کیلئے استعمال کر رہے ہوتے ہیں تب ایسے ڈیٹا کو شیئر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر کمپنیاں اس صورت میں بھی ڈیٹا اکھٹا کر رہی ہوتی ہیں۔ پروفیسر ڈوگ لیتھ (Doug Leith) نے کہا اب یہاں اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ سمارٹ فون کے سادہ استعمال کیلئے بھی گوگل اور آئی فون کو کیوں ڈیٹا کی ضرورت پڑتی ہے۔

              اس کیس اسٹڈی میں ہم نے اس بات پر غور کیا کہ ایپل اور گوگل اتنا قیمتی ڈیٹا کیوں لیتے ہے۔ لیکن ابھی تک ہمارے لیے اس بات کو سمجھنا بہت مشکل ہے کہ یہ دونوں کمپنیاں اس ڈیٹا کو کس جگہ استعمال کرتی ہیں۔ پروفیسر ڈوگ لیتھ (Doug Leith) نے کہا کہ اس قسم کا حساس ڈیٹا بغیر صارف کو بتائے لینا کمپنی کیلئے انتہائی شرم کی بات ہے۔ تاہم ایپل ماضی میں بڑے بڑے سکیورٹی کے دعوے کرتی تھی وہ بھی اس کام میں ملو ث ہے۔

            ریسرچ میں بتایا گیا کہ اکھٹے کیے جانے والے ڈیٹا میں صرف موبائل کا ڈیٹا ہی نہیں لیا جاتا بلکہ اور بھی ڈیٹا لیا جاتا ہے۔ اس اضافی ڈیٹا میں آپکے وائی فائی نیٹ ورک کا ڈیٹا اور میک ایڈریس جیسی معلومات بھی ایپل کمپنی اپنے موبائلز سے حاصل کرتی ہے۔ اس ایڈریس سے کمپنی آپکے نیٹ ورک کو پہچان لیتی ہے جس سے انہیں آپکے گھر کا یا دفتر کا پتہ تک مل جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ایپل کمپنی تو اس ڈیٹا کی مدد سے یہ معلوم کر سکتی ہے کہ آپکے اردگرد کون کون لوگ موجود ہیں۔ یہ ایک صارف کیلئے ایک انتہائی سنجیدہ بات ہے۔

:Concerns

خدشات:

اس ریسرچ نے اس طرح ڈیٹا اکھٹے ہونے کے چند خدشات بھی واضح کیے ہیں۔ اس ڈیٹا سے کمپنی یا کوئی ہیکر آپکے کے سورسز کا پتہ لگا سکتا ہے مثلاً آن لائن شاپنگ کی معلومات وغیرہ۔ اسی کے ساتھ ساتھ کمپنی کو آپکی ویب براؤزنگ کا بھی علم ہوتا ہے کہ آپ کون سی ویب چلا رہے ہیں کون سی نہیں۔
ریسرچ میں یہ بات واضح کی گئی کہ ایک سمارٹ فون کیسے کام کرتا ہے۔ البتہ اس رپورٹ کے رد عمل میں گوگل کے ایک نمائندے نے کہا کہ آج کل تمام جدید گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں اپنی گاڑی کے ایک ایک پُرزے کی معلومات آن لائن لے رہی ہوتی ہیں۔ تاکہ وہ اپنی گاڑی کی گارگردگی اور خرابی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ سمارٹ فون بھی کچھ اسی طرز پر کام کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں اُس ڈیٹا کی بات کی گئی ہے جو گوگل کمپنی اپنے سسٹم کی گارگردگی بہتر بنانے اور اپ ڈیٹا کرنے کیلئے لیتی ہے۔ اس نمائندے نے کہا کہ سمارٹ فونز مکمل طور پر محفوظ ہیں اور اس میں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
تاہم ایپل کمپنی نے اس رپورٹ کے ردعمل میں کوئی بیان نہیں دیا ہے۔