Facts And The Aurat March

حقائق اور عورت مارچ

اخبارکانام:  ایکسپریس ٹریبیوں؛  مصنف  کا  نام:کماَل  صدیقی؛   تاریخ: 15مارچ  2021

ہر سال کی طرح اس سال بھی عورتوں کے عالمی دن پر پاکستان کے مختلف شہروں میں عورت مارچ نکالا گیا۔ اس عورت مارچ نے پاکستانی معاشرے میں ایک ہلچل سی مچاکر رکھ دی ہے۔ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی عورت مارچ میں بہت سے نعرے اور اشتہار استعمال کیے گئے۔ ان نعروں اور اشتہارات کی وجہ سے پاکستانی عوام میں ایک بدگمانی سی پیدا ہو گئی ہے۔ اسی کے پیشِ نظر چند اخبارات میں یہ بھی آیاہے کہ اس سال کے عورت مارچ میں مغربی ایجنڈے کو فروغ دیا گیاہے۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں مختلف نعروں اور بینرز کے ساتھ عورت مارچ نکالا گیاالبتہ یہ نعرے اور بینرز لوگوں کی تنقید کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
عورت مارچ پر تنقید کرنے والوں کا یہ خیال ہے کہ اس سال عورت مارچ میں جو کچھ بھی ہوا وہ سب غیر اسلامی ہے۔ لیکن ایسے تجزیہ کار جو صرف حقائق پر مبنی بات کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ اس دفعہ عورت مارچ کے ایجنڈے کو لوگوں نے بہت غلط بنا کر پیش کیا ہے، جو بھی نعرے تھے انکی ایک جھوٹی شکل بنا کر سوشل میڈیا پر پیش کی گئی۔ پاکستان میں اس طرح کی حرکت کرنا ایک سنگین جرم ہے اور کسی چیز کا جعلی عکس پیش کرنے کی پاکستانی قانون میں سزا موت ہے۔
اس دفعہ سوشل میڈیا پر جتنی بھی ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہوئی ہیں وہ تقریباً تمام کی تمام جعلی ہیں۔ اور پھر ہماری عوام بھی ایسی ہی ہے جو آنکھیں بند کر کے ہر چیز پر یقین کر لیتی ہے۔ ان جعلی اور غلط ویڈیوز کی وجہ سے عورتوں کے حقوق کی تحریک بدنام ہوکر رہ گئی ہے۔ یہ ایک انتہائی خطرناک اور پریشانی والی بات ہے۔ اس قسم کے غلط اور جعلی ڈیٹا سے ملک میں انتشار پھیلنے کا اور کسی بڑے نقصان کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا ایسی کوئی بھی تصویر یا ویڈیو آپکے سامنے آئے تو اسکی پہلے تصدیق کر لیں پھر اس پر یقین کریں۔
عورت مارچ کے بارے میں ایسی غلط افواہوں کی وجہ سے لوگوں کے درمیان جنگ کا ماحول بنا ہوا ہےاور لوگ ایک دوسرے کو بُرا بھلا کہہ رہے ہیں۔ اب سوال یہاں یہ ہے کہ اگر درست حقائق کا پتہ لگایا جائے تو کیا یہ انتشار پھیلے گا؟ مثال کے طور پر عورت مارچ کے حوالے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں کراچی میں ہونے والے عورت مارچ کو لےکر جعلی اور انتہائی غیر اخلاقی طرز کے نعروں کو پیش کیا گیا ۔ اس ویڈیو کو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے ٹویٹر پر شیئر کیا اور اس ویڈیو کی وجہ سے اس مارچ میں شریک چند لوگوں کو مارنے کی دھمکی بھی دی جا چکی ہے۔ لیکن جب اس ویڈیو کا جائزہ لیا گیا اور اسکی تحقیق کی گئی تو پتہ چلاکہ اس ویڈیو میں ترمیم کی گئی ہے۔ اصل میں یہ ویڈیو اس ہال کی ہے جس میںعورت مارچ کی تقریب مرتب کی گئی تھی۔ جیسے ہی ویڈیو اس نعرے سے شروع ہوتی ہے کہ عمران بھی سُن لے آزادی، اس نعرے سے آگے اس ویڈیو میں غلط نعرے ترمیم کر کے شامل کیے گے ہیں جو اصل میں کچھ اور تھے لیکن

بعد میں انہیں انتہائی غیر اخلاقی بنا کر پیش کیا گیا۔ اصل میں اس ویڈیو میں جو نعرے تھے وہ یہ تھے؛ اووریا بھی سُن لے آزادی اور عنصر بھی سُن لے آزادی ۔ یہاں اووریا مقبول جان اور عنصر عباسی دونوں کا نام استعمال کیا گیا اور یہ دونوں ہی کالم نگار، تجزیہ کاراور مختلف ٹی وی چینل پر ہوسٹ ہیں۔ لیکن اس ویڈیو کی آواز میں ترمیم کر کے ناعوزبلہ عنصر کو اللہ بنا دیا گیا اور اووریاکو اولیاء بنا دیا گیا۔ تبدیلی کے بعد اس ویڈیو نے لوگو ں کے درمیان بہت غصہ پیدا کیا اور ایک تناؤ کی حالت بنا دی۔ البتہ بعد میں عورت مارچ کی انتظامیہ نے اصل ویڈیو میڈیا پر پیش کی اور تب لوگوں کے سامنے حقیقت آئی۔ البتہ ابھی تک بھی پاکستانی عوام کے ایک بڑے حصے کو اس ویڈیو کی اصلیت کا علم نہیں ہے۔
اسی کی طرح کا ایک اور واقعہ اسلام آباد میں ہونے والے عورت مارچ میں ہوا۔ اس مارچ کے بارے میں یہ غلط خبر پھیلائی گئی کہ اس مارچ میں فرانس کے جھنڈے لہرائے گئے۔ اس بات نے بھی سوشل میڈیا پر لوگوں میں غصہ پیدا کر دیا کہ یہ عورتیں مغربی ایجنڈے کی حامی ہیں۔ البتہ یہ بات بھی ایک جھوٹ اور غلط فہمی کا نتیجہ ہےکیونکہ فرانس کے جھنڈے میں تین رنگ ہیں سفید، لال اور نیلا جبکہ جو عورت مارچ میں جھنڈے استعمال کیے گئے ان میں سفید، لال اور پرپل رنگ استعمال ہوئے تھے۔ لہٰذاوہ فرانس کا جھنڈا نہیں تھا بلکہ وومین ڈیموکریٹک فرنٹ (Women Democratic Front) کا جھنڈا تھا۔ یہ ایک عورتوں کے حقوق کا ادارہ ہے جو پاکستان کےمختلف شہروںمیں کام کرتا ہے۔ تاہم اس بات کا خلاصہ بھی اس ادارے کی انتظامیہ نےاپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کیا لیکن اب کیا فائدہ اس غلط خبر سے جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔
اسی طرح ایک اور ویڈیو جس میں ایک اداکاراہ مہر بانو ایل جی بی ٹی (LGBT) کے خلاف کچھ بیانات دے رہی ہے۔ اس ویڈیو کو بھی کراچی والے عورت مارچ کے ساتھ منسلک کیا جا رہا ہے اور یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل رہی ہے۔ البتہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو اس سال کی ہے ہی نہیں بلکہ پچھلے سال کی ہے بس عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سوشل میڈیا پر شیئر کی جا رہی ہے۔ لیکن اب حقیقت کا کیا فائدہ اس انٹرویو کے متعلق غلط خبر سے جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو چکا۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہمیں حقائق پر مبنی چیزوں پر یقین کرنا سیکھ لینا چاہیے کیونکہ کسی نہ کسی کو تو ان بے معنی اور جعلی معلومات کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہر ایک کو یہ بات بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود چیزوں پر آنکھیں بند کر کے یقین نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ اس قسم کی معلومات بہت سے لوگوں کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی ہیں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ سوشل میڈیا کو لے کر قانون سازی کرے البتہ پہلے سے بھی بہت قانون موجود ہیں اس لیے حکومت کو چاہیے ان پر بھی عمل کروائے۔لہٰذا حکومت کو ان غلط خبروں کو روکنے کیلئے کردار ادا کرنا چاہیے اسی کے ساتھ ساتھ ہر شخص کو بھی اس کام میں حصہ لینا چاہیے۔ اگر کچھ نہیں تو اتنا تو ہم کر ہی سکتے ہیں کہ خود سے عہد کر لیں کہ ہم بغیر حقائق کے ایسی کسی چیز پر یقین نہیں کریں گے۔

:Sources

https://tribune.com.pk/epaper/news/Karachi/2021-03-15/OTUyMjg1YTlmYjQxMjNiYzVmNjQzYmEwYmZkZmEyMDAuanBlZw%3D%3D

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *