Re-engaging India: The Promise And The Peril

انڈیا کے ساتھ دوبارہ مشاورت: وعدہ اور خطرہ

اخبار کا نام: نیوز؛ مصنف کا نام: نسیم زہرہ؛ تاریخ: 25مارچ 2021
مصنف ایک سینئر تجزیہ نگار ہیں

انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کی دو سال کی لمبی چھوٹی ا ب لگتا ہے ختم ہونے والی ہے۔ دو نیوکلیر ممالک دوبارہ سے آپس میں مشاورت کر رہے ہیں۔ البتہ ایسے معاہدے پہلےبھی ان کے درمیان ہوچکے ہیں مگر وہ تمام کے تمام معاہدے باہری قوتوں کی وجہ سے ناکام رہے۔ اسکے علاوہ دونوں ممالک کے خیالات بھی آپس میں نہیں ملتے اس وجہ سے بھی انکے تعلقات کبھی اچھے نہیں بن پائے۔
اگرچہ اس دفعہ ہونے والی مشاورت کی ابتداء لائن آف کنٹرول (LoC) پر سیز فائر (Ceasefire) کے معاہدے سے ہوئی۔ اصل میں یہ معاہدہ 2003 میں کیا گیا تھا اور اب دوبارہ سے اس معاہدے کی پابندی پر دونوں ملکوں نے رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ اسکے بعد پاکستان اور انڈیا انڈس واٹر ٹریٹی (Indus Water Treaty) پر بات چیت کریں گے۔ یہ بات چیت دو سال کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔ ایک اچھے تعلق کے لیے انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 23 مارچ کے موقع پر پاکستانی وزیر اعظم کو خط لکھا اور پاکستان ڈے (Pakistan Day) کی مبارک باد دی۔ اسی کے ساتھ ساتھ سارک (SAARC) کی ایک میٹنگ بھی پاکستان کیلئے رکھی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ 2017 میں انڈیا نے پاکستان کی وجہ سے سارک میٹنگ میں جانے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم اسی کے پیش نظر وزیر اعظم عمران خان نے بھی دو طرفہ تعلقات کو فروغ دینے کی بات کی اور بات چیت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کے حل کی پیشکش کی ۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے دو طرفہ تجارتی عوامل اور پانی کے مسئلے کے حل کی بھی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک آپس میں مل کے غربت کا بھی خاتمہ کر سکتے ہیں۔
وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ نے بھی انڈیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی بات کی۔ اُن کا کہنا تھا کہ انڈیا کے ساتھ اچھے تعلقات نہ صرف خطے میںخوشی لائیں گے بلکہ ملک میں سکیورٹی کے خدشات کو بھی کم کریں گے۔ ان تعلقات سے دونوں ممالک خوشحالی کی طرف گامذن ہو سکتے ہیں۔ یہ خیالات پاکستان کے تمام دوست ممالک کے بھی ہیں جیسے سعودی عرب، چین، یو ائے ای (UAE)اور امریکہ وغیرہ۔ ماضی میں بھی ان ممالک نے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اچھے تعلقات بنانے کیکوشش کی تھی۔
آرمی چیف نے دو باتوں پر زیادہ زور دیا۔ پہلی یہ کہ ملک میں سے انتہاہ پسندی کا خاتمہ کیا جائےاور دوسری یہ کہ اپنے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے اچھے تعلقات بنائے جائیں۔آرمی چیف نے ان تمام باتوں کا اظہار اسلام آباد سکیورٹی ڈائیلاگ (Islamabad Security Dialogue) کے دوران کیا۔

اب سوال یہاں یہ نہیں ہےکہ پاکستان انڈیا کے ساتھ تعلقات کو لے کر کتنا سنجیدہ ہے۔ بلکہ یہ ہے کہ اس مشاورت کے دوران جو وعدے کیے جاتے ہیں اُنکو لے کر پاکستان کتنی باریکی سے سوچے گا۔ پاکستان دوبارہ سے تعلقات بہتر کرنے کیلئے کس قسم کی حکمت عملی اپنائے گا۔ پاکستان کے کسی بھی فیصلے پر انڈیا کے ساتھ ماضی میں تعلقات کا کیا اثر ہوگا۔ ان تعلقات میں پائے جانے والے خطرات اور نقصانات کا پاکستان کس طرح جائزہ لے گا؟
یہاں چار سوال سب سے اہم ہیں۔ کیا ایسی کوئی حکت عملی بنا ئی گئی ہےجسکو بنیاد بنا کر دہلی اور اسلام آباد آپس میں تعلقات بہتر بنائیں گے؟ اگر ماضی پر ایک نظر ڈالیں تو یہ سوال سب سے اہم ہے۔ کیونکہ ابھی تک جتنی دفعہ بھی سیاہ چین (Siachen) سے لے کر سر کریک (Sir Creek) کے تنازعے تک دونوں ملکوں نے بات چیت کی ہے اُس کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ لہٰذا پہلے ایک حکمت عملی بنانے کی ضرورت ہے جس پر دونوں ممالک متفق ہوں۔
اس صورت حال میں انڈیا کو اس بات چیت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اور انہیں اس بات چیت سے زیادہ فائدہ بھی ہوگا۔ کیونکہ کشمیر میں انڈیا نے جو حرکتیں کی ہیں وہ اب پوری دنیاکے سامنے ہیں۔ بین الاقوامی طور پر اس حکومت کی وجہ سے انڈیا بدنام ہو کر رہ گیا ہے۔ جب سے انڈیا کو آزادی ملی ہے تب سے وہاں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کبھی اتنی نہیں کی گئی جتنی اس حکومت نے کی ہے۔ یہاں تک کے انڈیا کے اپنے لوگ بھی اس بات پر تنقید کر رہے ہیں۔ ان حالات میں انڈیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ وزیر عظم پاکستان خاموش رہیں اور انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی کو ہیٹلر سے مشاہبت نہ دیں۔
دوسرا، کیا انڈیا تمام تنازعات پر بات چیت کرنے کیلئے تیار ہے جو سیاہ چین سے لے کر سر کریک تک ہوئے ہیں؟ انڈیا کے ساتھ بات چیت شروع کرنے سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کر لینی چاہیے کے کیا وہ تمام معاملات پر بات کریں گے جو ابھی تک لٹک رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سیاہ چین کے مسئلے کے بعد پاکستان نے بہت دفعہ معاملات حل کرنے کی کوشش کی مگر انڈیا کی وجہ سے ناکام رہے۔ 2007میں بھی جب اس مسئلہ پر آخری دفعہ بات ہوئی تھی تب بھی انڈیا نے بات چیت سے انکار کر دیا تھا۔ وہ اس وجہ سے کیونکہ انڈیا کی حکومت اور فوج ایک پیج پر نہیں تھے۔
تیسرا، کیا پاکستان مشاورت سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کروائے گا کہ انڈیا پاکستان کے خلاف اب کوئی کھیل نہیں کھیلے گا؟ سب جانتے ہیں کہ انڈیا پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث رہا ہے۔ اس کے علاوہ ایف اے ٹی ایف (FATF) کے معاملے میں بھی انڈیانے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اس لیے پاکستان کو چاہیے کہ پہلے ان تمام باتوں کی انڈیا سے یقین دہانی کروالے کہ وہ ایسا کوئی کام اب دوبارہ نہیں کریں گے۔
چوتھا، انڈیا کشمیر کے معاملے میں کیا فیصلہ لے گا؟ یہ سوال سب سے اہم ہے کہ انڈیا کشمیر کے معاملے میں کیسے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کرے گا۔ کیونکہ جب سے انڈیا نے کشمیر پر اپنا ظلم وستم بڑھایاہے تب سے کشمیری عوام کی حالت بہت بُری ہے۔ لہٰذا مشاورت کرنے سے پہلے پاکستان پہلے اس بات کی کو جان لے کہ انڈیا کیسے کشمیر کے مسئلے کو حل کرے گا۔ تاہم بغیر کشمیر کے حل کے انڈیا اور پاکستان کے تعلقات کبھی بہتر نہیں ہوسکتے۔ لہٰذا دونون ممالک کے حق میں بہتری کیلئے اور کشمیر ی عوام کے مسائل کے حل کیلئے انڈیا اور پاکستان کو یہ بات سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔

:Source

The News