Senate Elections, Is History Repeating Itself

سینٹ الیکشن، کیا تاریخ خودکو دہرا رہی ہے؟

3 مارچ 2021 کے سینٹ الیکشنز نے ملک کے سیاسی مناظر میں ایک زبردست جھٹکا دیا ہے۔ البتہ موجودہ حکومت کو ان الیکشنز میں کامیابی ملی ہے اور حکومت کی سینٹ میں نشستوں کی تعداد مخالف سیاسی پارٹیوں سے زیادہ ہو گئی ہے۔ لیکن اسلام آباد کی جنرل سیٹ پر شکست ملنے سے عمران خان حکومت کی جیت بھی ہار میں تبدیل ہوگئی ہے۔ اس جنرل سیٹ پر پی ڈی ایم (PDM) کے نمائندے کی جیت نے ملک کے سیاسی ماہرین کو کشمکش میں ڈال دیا ہے۔ کچھ ماہرین جو جمہوریت کے حامی ہیں وہ تو اس جیت کو جمہوریت کی ایک افسوس ناک ہار سمجھ رہے ہیں لیکن پی ڈی ایم (PDM) اس جیت کو جمہوریت کی جیت کہہ رہی ہے۔اگرچہ اس طرح کے خیالات اور تجزیے پاکستان کے سیاسی کلچر میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔
البتہ اگر ہم اس بات پر نظر ڈالیں کہ سینٹ الیکشنز کے بعد ملک میں کیا ہوا تو پتہ چل جائے گا کہ پاکستان میں جمہوریت کا کیا حال ہے۔ اس دفعہ کے الیکشنز کے بعد حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں ایک دوسرے کی جیت کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ چونکہ عمران خان نے پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے اس لیے حکومت نے سوچا تھا کہ اس عمل سے پی ڈی ایم (PDM) اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹ جائے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ پی ڈی ایم کا آج بھی وہی مطالبہ ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ دے۔ اگرچہ اس طرح عمران خان کا پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لینا، یہاں کچھ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہوا ہے یا یہ پاکستانی سیاست میں ایک نئی بات ہے۔ لیکن یہ پاکستانی سیاست میں پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے بلکہ سیاسی تاریخ میں اس طرح کے کئی واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ 1950 میں چوہدری محمد علی وزیراعظم ہونے کے باوجود سینٹ کی سیٹ ہار گے تھے اسی لیے اسکو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تھا۔ اس کے بعد حسین شہید سہروردی جب پارلیمنٹ میں سپورٹ ہار گئے تھے تو انہیں استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
پی ڈی ایم پاکستان کی تاریخ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، اس طرح کی تحریکیں پہلے بھی چلتی رہی ہیں۔ پاکستان نیشنل الائینس (Pakistan National Alliance) انہی تحریکوں میں سے ایک ہے- یہ 1970 کی دہائی کی تحریک ہے اور یہ تحریک ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف چلائی گئی تھی۔ اب یہاں حیرت کی بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو صاحب آج جن پارٹیوں کے ساتھ پی ڈی ایم میں شریک ہیں ماضی میں یہی پارٹیاں اُسکے نانا کے خلاف تھی۔ آخرکار اس طرح کے تمام معاملات ملک کو سیاسی بحران کی طرف لے جاتے عمران خان کے عدم اعتماد کا ووٹ لینے کے باوجود بھی پی ڈی ایم اُس سے استعفیٰ طلب کر رہی ہے۔ تاریخ سے سبق حاصل کرتے ہوئے پی ڈی ایم کو چاہیے کہ وہ اس حکومت کو اپنا ٹائم پورا کرنے دے۔ کیونکہ اگر پی ڈی ایم اس کام میں کامیاب ہو بھی جاتی ہے تب بھی آنے والی کوئی بھی حکومت اتنی مضبوط نہیں ہوگی کہ ملک کو سیاسی اور معاشی بحران سے نکال سکے اور بہتر ی کی طرف لے جا سکے۔ البتہ اگر یہ حکومت ختم بھی ہوجاتی ہے تو اپوزیشن کا اتحاد ٹوٹ جائے گا ، کوئی بولے گا میری حکومت ہونی چاہیے اور کوئی بولے گا میری۔ اسکے علاوہ دوبارہ الیکشنز ہونے کی صورت میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پی ڈی ایم دو حصوں میں تقسیم ہوجائے کیونکہ اس میں بڑی سیاسی پارٹیاں تو دو ہی ہیں۔
بظاہر تو ایسا لگتا ہے کہ تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ اگرچہ وزیراعظم کے پاس پارلیمنٹ میں زیادہ وو ٹ ہیں لیکن پی ڈی ایم کے نمائندے یوسف رضا گیلانی کی جیت نے یہ ثابت کیا ہے کہ حکومت کا اپنے ہی کارکنوں پر کنٹرول نہیں رہا۔ شاید اسی لیے ایک سیاسی گروپ حکومت کو اس بات پر مجبور کر رہا ہے کہ انہیں اب ہار مان لینی چاہیے۔ عمران خان کیلئے یہی صحیح وقت ہے کہ وہ اپنے مخالفین کو دیکھائے کہ اُس میں حکومت چلانے کی صلاحیت ہے یا نہیں۔ کیونکہ کچھ حکومت مخالف پارٹیاں ابھی بھی اس قابل ہیں کے وہ ملک کی سیاسی صورت حال میں تناؤ پیدا کر سکتی ہیں۔ سیاسی معاملات کو طے کرتے ہوئے یا حکومت میں موجود ہو کر بڑے فیصلے کرتے ہوئے سیاستدانوں کو تاریخ سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے تاکہ وہ ملک کے حق میں بہتر فیصلے کر سکیں۔ہمیں اس دفعہ تاریخ کو خود کو دہرانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

Sources

https://tribune.com.pk/epaper/news/Lahore/2021-03-10/MmUzODY4NzMxMmUxMDNjNGFhODk5NDYwYzZkMzIwNTMuanBlZw%3D%3D

Credit

https://tribune.com.pk