What Does Sanjrani’s Win Mean

سنجرانی کی جیت کا کیا مطلب ہے؟

حال ہی میں سینٹ چیئرمین کیلئے ہونے والے الیکشنز میں پاکستان تحریک انصاف کو جیت حاصل ہوئی ہے۔ ان الیکشنز میں دس ایسے پہلو ہیں جو صادق سنجرانی اور مرزا آفریدی کی فتح کا باعث بنی ہیں اور ان میں سے کچھ ہمارے سسٹم کیلئے پریشانی کا باعث بھی ہیں:

1۔ حکومتی امیدوار صادق سنجرانی کوپولنگ کے دوران 48 ووٹ ملے جبکہ سینٹ میں حکومتی پارٹی کی 47 نشستیں ہی ہیں۔ دوسری طرف پی ڈی ایم (PDM)کو 42ووٹ ملے جبکہ پی ڈی ایم کے پاس سینٹ میں 53 نشستیں ہیں۔ البتہ ان میں سے اسحاق ڈار اور جے آئی (JI)کے سینیٹر اسمبلی میں غیر حاضر تھے۔ تب بھی یوسف رضا گیلانی کو 51 ووٹ ملنے چاہیے تھے۔ چونکہ سنجرانی کو ایک ووٹ زیادہ ملا ہے اس لیے گیلانی کے 50ووٹ باقی رہ جاتے ہیں۔ لیکن 8 ووٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے گیلانی کو صرف 42 ووٹ ہی ملے کیونکہ منسوخ ہونے والے ووٹوں میں 7 ووٹ گیلانی کے حق میں تھے۔
2۔ اسی طرح ڈپٹی چیئرمین کے الیکشنز میں بھی پاکستان تحریک انصاف کی جیت ہوئی ہے۔ لیکن ان میں حکومتی امیدوار مرزا آفریدی نے 54 ووٹ حاصل کیے اورمولانا غفور حیدری کو 44 ووٹ ملے اور کوئی ووٹ منسوخ نہیں ہوا۔ یاد رہے کے حکومت کے پاس سینٹ کی صرف 47 نشستیں ہیں۔ اسکا مطلب ہے مرزا آفریدی کو 7 ووٹ اضافی ملے۔یہاں حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو ووٹ گیلانی کے منسوخ ہوئے تھے وہ اس دفعہ آفریدی کے حصے میں آئے۔ اگر ایسا سچ میں ہوا ہے اور اسکی کوئی اور وجہ نہیں ہے تو پی ڈی ایم کیلئے یہ پریشان کُن بات ہے، کیونکہ انکے اپنے ہی سینیٹر حکومتی امیدوار کو ووٹ دے کر آئےہیں۔
3۔ جن 7 سینیٹرز کے ووٹ منسوخ ہوئے ہیں الیکشن کمیشن کے مطابق وہ گیلانی کے حق میں تھے۔ اب سوال یہاں یہ ہے کہ اگر وہ گیلانی کے حق میں تھے تو اُسے ملے کیوں نہیں؟ الیکشن کمیشن کے مطابق جن سینیٹر کے ووٹ منسوخ ہوئے ہیں انہوں نے گیلانی کے نام پر مہر لگا دی اس لیے وہ منسوخ ہو گئے۔ کیونکہ ووٹ دیتے وقت نام پر نہیں نام والے ڈبے میں مہر لگانا ہوتی ہے۔ البتہ بیلٹ پیپر پر کوئی علیحدہ ڈبہ نہیں ہوتا ایک ہی ڈبہ ہوتا ہے اور اس میں نام لکھا ہوتا ہے۔ چونکہ پورے بیلٹ پیپر پر دو ہی ڈبے تھے جن میں دونوں امید وارں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ منسوخ ہونے والی ووٹوں میں ایک ووٹر ایسا تھا جس نے دونوں ڈبوں میں ایک ساتھ مہر لگائی ہوئی تھی یعنی یہ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ووٹ گیلانی کا ہے یا سنجرانی کا اس لیے وہ منسوخ کر دیا گیا ۔ اس کے علاوہ باقی چھ منسوخ ہونے والی ووٹوں میں مہر گیلانی کے نام ہی لگائی گئی تھی اس لیے وہ منسوخ ہوئی۔ اس معاملے کو پی ڈی ایم اب عدالت میں لے کر جانا چاہتی ہے۔ اب یہ ایک الگ مسئلہ ہے کے عدالت ایسے سیاسی معاملات میں عمل درامد کرے گی یانہیں۔ اگر تو عدالت اس بات کا نوٹس لے لیتی ہے تو پی ڈی ایم کو فائدہ ہو سکتا ہے اگرنہیں تو سنجرانی محفوظ ہے۔
4۔ اگر ساتھ سینیٹرز سے ووٹ ڈالتے وقت غلطی ہوئی تو وہ غلطی انہوں نے ڈپٹی چیئرمین کو ووٹ دیتے وقت ٹھیک کیوں نہیں کی۔ وہ اپنے امیدوار کی بجائے حکومتی امیدوار کو ووٹ کو دے کرکیوں آئے؟ اس دفعہ آٹھ سینیٹرز نے بلکل ٹھیک ووٹ ڈالا اور بنا کسی غلطی کے آفریدی والے ڈبے میں مہر لگائی ۔ البتہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ ان سینٹرز نے ڈپٹی چیئرمین کیلئے ہونے والے الیکشنزمیں اپنی غلطی کو درست کر لیا۔

5۔ سینٹ الیکشنز میں ایسی ہی ایک نااہلی اور ہوئی جو پولنگ بوتھ میںخفیہ کیمرے لگائے گئے۔ یہ خفیہ کیمرے ڈاکٹر مصدق ملک اور مصطفیٰ نوار کی آنکھ نے تلاش کیے۔ یہاں یہ بات تو ظاہر ہے کہ کیمرے لگانے والے شخص نے سینٹ حال میں داخل ہو کر ہی کیمرے لگائے ہوں گےاور یہ تب لگائے ہوں گے جب اردگرد کوئی نہیں ہوگا۔ اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ کیمرے لگانے والا شخص ضرور سینٹ کیلئے کام کرتا ہے اس لیے وہ بنا کسی روک ٹوک کے ہال میں اس طرح داخل ہوا اوراُس نے اپنا کام سرانجام دیا۔ اسکے کے علاوہ ایک اور اہم بات کے ہال میں حفاظتی کیمرے ہر طرف لگے ہوئے ہیں تو وہ شحص کیسے ان میں آئے بغیر حال میں داخل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ ابھی تک انتظامیہ نے ان باتوں کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

6۔ البتہ یہ حکومت کیلئے جشن منانے کا وقت ہےکیونکہ حکومتی نمبر اب ہر لحاظ سے حکومت کے حق میں ہیں۔ عمران خان نے نیشنل اسمبلی میں عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے اپنی اکثریت کو منوایا اور سنجرانی اور آفریدی نے سینٹ میں پی ٹی آئی حکومت کو جیت دلائی۔ لہٰذا اب پی ڈی ایم کیلئے سنجرانی کے خلاف عدم اعتماد کاووٹ حاصل کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے۔

7۔ پی ٹی آئی حکومت الیکشن تو جیت گئی ہے لیکن اخلاقی حیثیت سے انہیں شکست ملی ہے۔ گیلانی کی حفیظ شیخ کے خلاف جیت کے بعد حکومت کا یہ ایجنڈا کہ پارلیمنٹ میں کم نشستیں ہونے کے باوجود گیلانی کیسے جیت سکتا ہےبالکل بے مطلب بن گیا ہے۔ کیونکہ اب حکومتی امید وار بھی کم ووٹ ہونے کے باوجود ہی چیئرمین سینٹ منتخب ہوا ہے۔ اسکے علاوہ پولنگ بوتھ میں خفیہ کیمروں کا پایا جانا پی ٹی آئی حکومت کی امیج کو اور خراب کر دیتا ہے۔

8۔ پی ڈی ایم کے لانگ مارچ کا منصوبہ اب اور پختہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ اب پی پی پی (PPP) بھی پارلیمنٹ میں بیٹھنے کی بجائے مارچ میں شرکت کرنے کو ترجیح دے گی۔ اور مولانا فضل الرحمٰن ایک دفعہ پھر پی ڈی ایم کی قیادت کرتے نظر آئیں گے۔

9۔ سینٹ سیکر ٹریٹ کی کارگردگی پر بھی یہاں سوال اُٹھایا جا سکتاہے۔ اسکے علاوہ الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی ایک صاف اور شفاف الیکشنز کروانے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ کیونکہ حال ہی میں ڈسکہ ،سیالکوٹ میں ہونے والے الیکشنز میں بھی یہی حال تھا جو اس دفعہ کے سینٹ الیکشنز میں ہوا ہے۔ شاید اسی لیے نااہلی ہماری سسٹم کا ایک حصہ بن چکی ہے۔
10۔ ہمارا سسٹم خاص طور پر الیکشن کروانے والا سسٹم پوری طرح برباد ہو چکا ہے اب اس میں کسی قسم کی کوئی غیرجانبداری باقی نہیں رہی ہے۔

:Sources

https://epaper.dawn.com/DetailNews.php?StoryText=13_03_2021_006_0

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *