White Supremacist Assaults On Asian Americans

ایشیائی امریکیوں پر سفید فارم بالا دستی کا حملہ

اخبار کا نام: ایکسپریس ٹریبیوں؛ مصنف کا نام: جاوید برکی؛  تاریخ: 27مارچ2021

امریکہ میں اس وقت بیس ملین سے بھی زیادہ ایشیاء سے تعلق رکھنے والے لوگ رہتے ہیں۔ یہ امریکہ کی ٹوٹل آبادی کا تقریباً 6.5 فیصد حصہ ہیں۔ اور یہ تمام لوگ آدھی صدی سے بھی زیادہ عرصے سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ماضی میں بہت دفعہ ایسے حالات پیدا ہوئے کہ ایشیاء سے لوگوں نے امریکہ کی طرف رُخ کیا۔ اٹھارویں صدی کے آخر میں چین سے مزدور امریکہ میں ریلوے سسٹم بنانے آئے تھے۔ تب سے وہاں پر چین ٹاؤنز (China Towns)کی تعداد میں اضافہ ہونا شروع ہوا۔ ریلوے کا کام ختم ہونے کے بعد بھی بہت لوگ ایسے تھے جو اپنے ملک واپس ہی نہیں آئے۔
اگرچہ اسی لیے وہاں چین کے لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے1882 میں ایک ایکٹ (Chines Exclusion Act) متعارف کروایا گیا۔ اسی طرح سیکھ مزدور انسویں صدی کے آخر میں اور بیسویں صدی کے شروع میں امریکہ جانے شروع ہوئے۔ یہ امریکہ کے شمالی جنوبی علاقے میں کھیتی باڑی کرنے کیلئے گئے تھے۔ تاہم یہ تمام سیکھ برادری پنجاب سے گئی تھی جو پاکستان اور انڈیا کی آزادی سے پہلے ایک ہوتے تھے۔ چین کے لوگوں کی طرح سیکھ بھی کام ختم ہونے کے بعد واپس نہیں آئے۔ سیکھ گھر آنے کی بجائے کینڈا (Canada) چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی ایک کمیونئی کی بنیاد رکھی۔ آج کینڈا کے بہت سے شہروں میں سیکھ اور پنجابی بہت زیادہ تعداد میںموجود ہیں۔
اسی طرح ٹیکنیکل افراد کی جنوبی ایشیاء سے امریکہ ہجرت تب شروع ہوئی جب امریکہ میں ٹیکنکل افراد کی بہت زیادہ کمی ہو گئی تھی۔ میڈیکل کے شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک سے گئے۔ جبکہ انڈیا نے آئی ٹی (IT) سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی وافر مقدار امریکہ بھیجی۔ ان دونوں ممالک سے لوگ زیادہ اس لیے بھی وہاں جاتے تھے کیونکہ یہاں روزگار کے مواقع بہت کم تھے۔
ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہےکہ امریکہ میں آج ایشیائی لوگوں کی بہت زیادہ تعداد موجود ہے۔ البتہ جب تک ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) امریکہ کی سیاست میں نہیں آئے تھے تب تک یہاں سے لوگ مسلسل امریکہ جا رہے تھے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاہ فام اور غیر عیسائی لوگوں کو لے کر کیا حکمت عملی تھی وہ سب جانتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے خصوصی طور پر خلاف تھا۔ ٹرمپ کی انتہا پسندی تو تب مکمل طور پر سامنے آئی جب کرونا وائرس دنیا میں آیا۔ چونکہ کرونا سب سے پہلے چین میں آیا تھا اسی لیے وہ اس وائرس کو چین وائرس (China Virus) اور کونگ فلو (Kung Flu) جیسے نام سے پکارتا تھا۔ایک صدر کی اس طرح کی حرکتوں نے سفید فام لوگوں میں ایشیائی لوگوں کیلئے نفرت پیدا کر دی۔ اسی وجہ سے امریکہ میں ایشیائی لوگوں کے خلاف بہت سے واقعات بھی پیش آئے۔
16 مارچ 2021 کو روبٹ ائیرون لانگ(Robert Aaron Long)، ایک 21 سال کے سفید امریکی نے چار مساج پارلر (Massage Parlor) پر حملہ کیا۔ اس حملے کے نتیجے میں آٹھ لوگ گولی لگنے کی وجہ سے مارے گئے جن میں سے سات عورتیں تھی۔ ان مارے جانے والوں میں چھ لوگ ایسے تھے جن کا تعلق ایشیاء سے تھا۔ اگرچہ اس واقعے کی امریکہ کے نئے صدر جو بائیڈن (Joe Biden) نے سخت مخالفت کی اور گناہ گار کو سزا دینے کا وعدہ کیاہے۔
کمالہ ہارث (Kamala Harris) نے کہا ؛ ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ میں انتہا پسندی اور نسل پرستی آج بھی ایک حقیقت کا نام ہیں۔ کمالہ ہارث امریکہ کی نائب صدر ہیں اور خود بھی ایک ایشیائی ملک سے تعلق رکھتی ہیں۔ مزید اس نے امریکہ کے پُرانے صدر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا؛ ٹرمپ نے گذشتہ سال ایک بیان دیا تھا کہ ہمارے پاس ایسے طاقتور لوگ موجود ہیں جو ایشیاء سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو اچھی طرح سبق سیکھا سکتے ہیں۔ لیکن جو بائیڈن کی حکومت اس حکمت عملی کے بالکل خلاف ہے۔
امریکہ میں ایشیائی لوگوں کے خلاف تحریکوں نے گذشتہ سا ل سے بہت زور پکڑا ہے۔ البتہ جو بائیڈن ان تحریکوں کو غلط اور غیر امریکی قرار دیتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کی تقریر میں جو بائیڈن نے ان سب باتوں کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹھہرایا ۔ اسی کے پیش ِنظر جو بائیڈن نے ایک حکم بھی جاری کیا جس سے ایشیائی لوگوں کے خلاف انتہا پسندی اور نسل پرستی کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کانگرس (Congress) میں ایک بل Covid-19 Hate Crimes Act کے نام سے پیش کیا۔ اس بِل میں کرونا کے دوران بڑھنے والے جرائم کو کم کرنے کیلئے ایک قانون متعارف کروایا گیا۔ یہ قانون سازی بھی دو ایشیاء سے تعلق رکھنے والے افراد نے متعارف کروائی جو اس وقت امریکن حکومت کا حصہ ہیں۔
البتہ امریکہ میں اس انتہا پسندی کی اصل آغاز ٹرمپ کے دور سے ہوئی۔ اُس نے چار سال وائٹ ہاؤس (White House) میںگزارے۔ ٹرمپ کی حکمت عملی اس سوچ پر مبنی تھی کہ جس تعداد میں ایشیاء کے لوگ امریکہ میں آرہے ہیں، ڈر ہے کہ امریکہ کی سفید فام والی پہچان نہ ختم ہو جائے۔ اسی لیے وہ سیاہ فام لوگوں کے اور اُنکے امریکہ میں داخل ہونے کےخلاف تھا۔ ٹرمپ اکثر ہی ایسے لوگوں کیلئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتا تھا جو سیاہ فام یا ایشیائی ممالک سے امریکہ جاتے تھے۔
ایسی ہی حکمت عملی کے پیشِ نظر وہ میکسیکو (Mexico) کی سرحد پر ایک دیوار تعمیر کروا رہا تھا جو امریکہ کو میکسیکو سے الگ رکھے۔ ٹرمپ کی حکومت میں سیاہ فام لوگوں کا امریکہ میں رہنا بہت مشکل ہو گیا تھا اور گرین کارڈ (Green Card) کی سہولت بھی اُنکے لیے بند کر دی گئی تھی۔ البتہ جو بائیڈن کو امریکہ کی سرحدیں کُھلی رکھنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے۔ اس لیے جو بائیڈن نے حکومت میں آتے ہی ایسی تمام پابندیاں واپس لے لی ہیں۔ تاہم مسلم ممالک پر بھی لگائی تمام پابندیاں جو بائیڈن نے واپس لے لی ہےں، اب وہاں سے بھی لوگ امریکہ جا سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کرونا کا سہارا لیتے ہوئے یہ پابندیاں لگائیں تھی۔ ایک ریسرچ کے مطابق ٹرمپ کی ان پابندیوں کی وجہ سے 660,000 امریکہ میں رہنے والے لوگ متاثر ہوئے۔ البتہ اب جو بائیڈن کی ان تمام پابندیوں کو ختم کرنے کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔ اور لاکھوں کی تعداد میں  وہاں ایسے لو گ موجود ہیںجو غیر قانونی طور پر رہ رہے ہیں۔ لہٰذا اب اُن سب لوگوں کو امریکہ کی شہریت مل جائے گی۔

 

:Source

Express Tribune