Why Are Pakistani Doctors Hesitant To Get Vaccinated

پاکستانی ڈاکٹر کرونا ویکسین کے معاملے میں کیوں ہچکچا رہے ہیں

پاکستان سمیت پوری دنیا میں تقریباً 94 سے زیادہ ممالک میں کرونا ویکسینیشن (Vaccination) کا عمل جاری ہے۔ لیکن پاکستان میں ویکسین کو لے کر ابھی تک کوئی جامع منصوبہ تشکیل نہیں دیا گیا ۔ البتہ جب پاکستان میں ابھی ویکسین نہیں آئی تھی تب حالات پھر بھی بہتر تھے۔ اب پاکستان میں کرونا کی ویکسین تو ہے لیکن صرف وہ جو خیرات کی شکل میں ملی ہے۔ تاہم اگر اس بات کو بھی نظر انداز کر دیا جائے تب بھی آبادی کے مقابلے میں ویکسینز کی تعداد بہت کم ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ جو ویکسینز موجود ہیں پاکستانی عوام اُسے لگوانے سے انکار کر رہی ہے۔ لہٰذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں ویکسین تو ہے لیکن اُسے کس منصوبے کی تحت لگانا ہے وہ ابھی تک نہیں بنایا گیا ۔
ہم نے میسج کے ذریعے ترسیل کیے جانے والے پیغامات اور آڈیو میسجز کے ذریعے اپنی ویکسینین مہم کا آغاز کیا تھا۔ باقی تمام ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سب سے پہلے فرنٹ لائن ورکر جو صحت کے شعبے سے تعلق رکھتے ہیں کو ویکسین لگائی جانی تھی۔ اُسکے بعد اُن لوگوں کو لگائی جانی تھی جن کی عمر 65 سال سے زیادہ ہے۔ لیکن صورت حال یہ ہے کہ ابھی تک 60 فیصد سے زیادہ ایسے فرنٹ لائن ورکر موجود ہیں جنکو ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی۔ اس مہم کو شروع ہوئے ایک مہینے سے زیادہ ہوگیا ہے لیکن ابھی تک کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں بنایا گیا ۔
اگرچہ یہ بات ظاہر ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے ہی ویکسین لگوا یں گے۔ اب کسی کو زبر دستی تو ویکسین لگائی جا نہیں سکتی۔ اسی وجہ سے پاکستانی عوام کی جانب سے ویکسین لگوانے کے معاملے میں ہچکچاہٹ صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ دیکھا جائے تو یہ ہچکچاہٹ پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین کے بیان کے بعد زیادہ ہو گئی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ ہر شخص اپنی ذمہ داری پر ویکسین لگوائیں کیونکہ یہ جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس لیے بولا کیونکہ چند ممالک میں ویکسین کی وجہ سے اموات بھی واقع ہوئی ہیں۔ اب تو بہت سے ڈاکٹر بھی لوگوں کو اس بات کی تجویز کرتے ہیں کہ وہ ویکسین نہ لگوائیں۔البتہ اب تک 197,000 کرونا ویکسین پاکستانی عوام میں لگائی جا چکی ہیں۔
کرونا کے بارے میں جو افواہیں گذشتہ ایک سال سے گردش کررہی ہیں انہوں نے اب کرونا ویکسینیشن کے عمل پر اپنا اثر دِکھانا شروع کر دیا ہے۔ لہٰذا اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ عوام کو حکومتی اداروں اور بین الاقوامی صحتکے اداروں پر اعتبار نہیں ہے۔ اسی بے اعتباری کے پیشِ نظر چین کی بنائی گئی ویکسین پر بھی بہت تنقید کی جا رہی ہے۔ یاد رہے چین ہی وہ ملک ہے جہاں سے کرونا وبا نے جنم لیا تھا اور بعد میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ البتہ چین میں وبا چند عرصے بعد ہی غائب ہوگئی تھی جبکہ باقی ممالک میں آج تک موجود ہے۔ “حال حال ہی میں ایک نئی بات سامنے آئی ہے کہ چین کی بنائی ہوئی ویکسین ابھی قابل یقین نہیں ہے اور یہ بات ڈاکٹر حضرات کی طرف سے بولی گئی ہے۔ اُنکا کہنا ہے کہ چین ابھی اپنی ویکسین پر تجربے کر رہا ہے۔ اس بات پر اگر ہم مزید روشنی ڈالیں تو ایک اور بات سامنے آتی ہے؛ پہلے چین کی بنائی ہوئی ویکسین پر یہ لکھا آتا تھا کے یہ چین کی بنائی ہوئی ہے (Made In China)، لیکن اب اسکی جگہ لکھا آتا ہے کہ یہ پی آر سی (PRC) کی طرف سے بنائی گئی ہے۔ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ چین کا پورا نام عوامی رپبلک آف چین (People’s Republic of China) ہے۔ لہٰذا جیسے ہی چین کی کمپنیوں نے یہ بات محسوس کی کہ چین کا نام پڑھ کر لوگ ویکسین نہیں خرید رہے تب انہوں نے پی آر سی لکھنا شروع کر دیا۔
اسی کے ساتھ ہمارے ویکسینشن کے عمل میں روکارٹ کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے خیرات میں ملنے والی ویکسینز سے اس عمل کا آغاز کیا ہے۔ اس وجہ سے بھی ویکسین کے عمل کو سخت تنقید کا سامنا ہے اور بالخصوص چین کی ویکسین کیونکہ سب سے پہلے انہی کی ویکسین ہمارے ملک میں آئی تھی۔ شاید اسی لیے لوگ ابھی تک بھی ویکسین لگانا پسند نہیں کرتے۔
البتہ حکومت نے غیر سرکاری لیبارٹریوں کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ روس کی ویکسین اپنی مرضی کے داموں پر فروخت کر سکتے ہیں۔ حکومت کے اس عمل نے امریکہ اور انگلنیڈ کی بہترین ویکسینز تک عوام کی رسائی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اور غیر سرکاری کمپنیاں کم کارآمد ویکسینز فروخت کر کے پیسے کما رہی ہیں۔ اس قسم کی نا اہلی اور غیر سنجیدہ حکمت عملی نے پاکستان میں ویکسین کے عمل پر اپنے گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ لہٰذا ہمیں جلد از جلد اس عمل کو بہتر اور کامیاب بنانے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں تک اچھی اور بغیر نقصان والی ویکسین پہنچائی جا سکے۔

:Sources

https://tribune.com.pk/epaper/news/Karachi/2021-03-11/OTdiOGQyNmZlNDkzNDNlYTlkY2VkOWQxZTExNDczNjguanBlZw%3D%3D